کاٹ کباڑ اور غیر ضروری اشیاء سے نجات [Challenge]

ہم اپنی زندگیوں میں دانستہ یا غیر دانستہ بہت سی ایسی چیزیں اکھٹی کرتے رہتے ہیں جن کی ہمیں نا تو کوئی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی ساری عمر کبھی ضرورت پڑنے والی ہوتی ہے، لیکن ایک واہمہ جو ہمیں لاحق ہوتا ہے کہ "شاید کبھی ہمیں اس کی ضرورت پڑ جائے”، تمام عمر ہمیں ان اشیاء کو سنبھال سنبھال کر رکھنے پر مجبور کرتا رہتا ہے۔ میں پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے اپنی زندگی کو سادہ بنانے میں لگا ہوا ہوں اور ایسی بہت سی غیر ضروری اشیاء سے میں نے نجات بھی حاصل کر لی ہے۔ لیکن اب بھی بہت سی ایسی چیزیں میری زندگی میں شامل ہیں جن کی مجھے کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کبھی پڑنے والی ہے، ان اشیاء میں کپڑے، جوتے، الیکٹرونکس اور کمپیوٹر سے متعلق اشیاء، غیر ضروری کتابیں، اسٹیشنری اور پتا نہیں کیا کیا شامل ہے۔ یہ تمام چیزیں صرف اور صرف جگہ گھیر رہی ہیں اور میرا قیمتی وقت ان کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی میں صرف ہو رہا ہے۔ یہ تمام اشیاء میرے ہدف "سادہ طرزِ زندگی” کی راہ میں بھی رکاوٹ ہیں۔

نیا سال شروع ہوئے ایک ماہ گزر چکا، 2018ء میں میرا ایک اہم ہدف اپنی زندگی کو غیر ضروری اشیاء سے پاک کرنا ہے۔ فروری کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور اس ماہ میں ایک Challenge پر کام کرنے جا رہا ہوں، 28 دنوں کا یہ Challenge بڑا سیدھا سادا ہے۔ آج اس Challenge کا پہلا دن ہے تو  میں آج اپنی زندگی سے ایک غیر ضروری چیز باہر نکال دوں گا،کل دو چیزیں نکالوں گا، پرسوں تین اور اٹھائیسویں دن 30، غرض اس Challenge کا جو بھی دن ہو گا اس دن میں اتنی اشیاء کو زندگی سے نکال دوں گا۔ یہ چیزیں کپڑے، جوتے یا پھر کچھ بھی ایسا ہوسکتا ہےجسے میں نے خواہ مخواہ سنبھال کے رکھا ہوا ہے۔ میں ایسی تمام اشیاء بیچ دوں گا، کسی کو تحفتاً دے دوں گا یا پھر پھینک دوں گا، غرض کچھ بھی کر کےمیں ان کو اپنی زندگی سے نکال باہر کروں گا۔ میں نے جو حساب لگایا ہے اس کے مطابق 30 دنوں میں ان اشیاء کی تعداد 406 ہو گی جن سے میں نجات حاصل کروں گا، 406 فضول اشیاء۔

کچھ شعبے جن پر میں ان 28 دنوں میں کام کرنا چاہتا ہوں، درج ذیل ہیں۔

کپڑے: میں یہ مانتا ہوں کہ ہم نے جتنے جوڑے کپڑوں کے اکٹھے کر رکھے ہوتے ہیں، اتنوں کی ہمیں بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں نے پچھلے کچھ ماہ میں اس چیز پر کام کیا ہے اور کافی فضول کپڑوں، سویٹروں اور ایسی ہی الا بلا سے جان چھڑائی ہے۔ لیکن اب بھی کافی سے زیادہ کپڑے رہتے ہیں جن سے نجات ضروری ہے، تو اس ماہ میں میرا سب سے اہم ہدف کپڑے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں :   آمدنی سے کم خرچ

جوتے: کپڑوں کی طرح میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی حلال کمائی جوتوں پر کافی سے زیادہ خرچی ہے تو اس ماہ ان سب سے نجات حاصل کروں گا۔ ایک جوڑا بند جوتوں کا، ایک جوگرز واک اور بھاگ دوڑ کے لیے اور ایک کھلا جوتوں کا جوڑا گھر میں پہننے کے لیے۔ اس کو علاوہ تمام جوتے میرے لیے فضول ہیں اور ان سے میں اس ماہ نجات حاصل کر لوں گا۔

کمپیوٹری اشیاء: میرا تعلق کیوں کہ کمپیوٹر کی دنیا سے ہے تو جو جہان کی گیجٹس بھی میں نے اکٹھی کر رکھی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان سے بھی نجات حاصل کر لوں۔ ان گیجٹس کو میں بیچنے کی کوشش کروں گا، اگر بِک گئی تو ٹھیک ورنہ گفٹ کر دوں گا۔ آپ میرے بلاگ اور یوٹیوب چینل کے ساتھ جڑے رہیں کیوں کہ ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ میں یہاں بھی Giveaway کے طور پر دے دوں۔

متفرق اشیاء: اوپر دی گئی چیزوں کے علاوہ بہت سی ایسی اشیاء میں نے سنبھال کے رکھی ہوئی ہیں جن کے سنبھال کے رکھنے کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ ان اشیاء میں پین، پینسلیں، مختلف مواقعوں پر ملنے والے تحائف، انعامات، پرانے کاغذات، ردی کتابیں، ٹوٹی پھوٹی اشیاءاور پتا نہیں کیا کیا شامل ہے۔ اس چیلنج کے اختتام پر جب میں تحریر لکھوں گا تو اس میں تفصیلاً ذکر کروں گا کہ میں نے ان 28 دنوں میں کِن کِن چیزوں سے نجات حاصل کی ہے۔

چلیں جی، Challenge کا پہلا دن اور کامیابی سے اس کے مکمل ہونے کی دعا۔

افسوس میں پورے 28 دن اس  Challenge کے ساتھ نہ چل سکا۔ میں نے پہلے چند دن بڑے جوش و خروش سے اس پر کام کیا لیکن پھر زندگی کی دیگر مصروفیات آڑے آ گئیں اور اس  Challenge کو ایک ناکام  Challenge بنا گئیں۔ بہرحال میں نے چند دنوں میں کافی گند مُند سے چھٹکارا حاصل کیا اور زندگی رہی تو اس Challenge پر میں مستقبل قریب میں پھر سے کام ضرور کروں گا۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: !!معذرت، کاپی کی اجازت نہیں