اخبار کی راتیں اور ریڈیو کے دن ۔ رضا علی عابدی

رضا علی عابدی کی پہلی کتاب جو میرے مطالعہ میں آئی وہ "کتب خانہ” تھی اور سچ پوچھیں تو اس پہلی ہی کتاب نے مجھے ان کی تحریر کا گرویدہ بنا دیا۔ ایک تو ذکر کتابوں کا اور پھر اوپر سے آسان اور سلیس زبان، الفاظ اور تراکیب کا چناؤ ایسا کہ عام فہم ہونے کے باوجود انسان کو رک کر دوبارہ پڑھنے پر مجبور کر دیں۔ رضاء علی عابدی تمام عمر صحافت کے پیشے سے وابسطہ رہے، اخبارات سے اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا اور ریڈیو پر ختم کیا۔ کئی کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیں، ان کے کئی ریڈیو پروگراموں کو بھی کتابی شکل دے دی گئی ہے۔

آج سے کچھ سال قبل راولپنڈی میں کتابوں کی مشہور دوکان "اشرف بک ایجنسی” پر آپ جناب کی دو نئی کتب "اخبار کی راتیں” اور "ریڈیو کے دن” نظر آئیں تو فوراً خرید لیں اور شاید اسی دن یا پھر اس سے اگلے دن دونوں پڑھ بھی لیں، وہی آسان اور شستہ زبان، عابدی صاحب لکھتے ہیں اور کمال لکھتے ہیں۔ "اخبار کی راتیں” رضا علی عابدی کے صحافت کے کارِزار میں گزرے پہلے پندرہ برسوں کی کہانی ہے جو آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔ پندرہ برس جو انہوں نے اخبار کی نظر کیے، اس دوران ان پر، اخبارات پر اور اس ملک پر کیا کیا بیتی۔ کب کب ، کیا کیا اخبارات میں چھپا اور کب مصلحتوں کی نظر ہو کر یا پھر نظریہ ضرورت کے تحت نہ چھپ سکا، کیسے کیسے افراد، مالکان اور حکمرانوں سے واسطہ پڑا، عابدی صاحب نے اپنی یاداشت کو کھنگالا ہے اور بے شمار ایسے واقعات تحریر کیے ہیں جو بیک وقت ہنساتے بھی ہیں اور رلاتے بھی ۔ ہر شخص باالخصوص صحافت اور لکھنے پڑھنے سے وابسطہ افراد کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں :   سستی اور کاہلی کا علاج [کتاب خلاصہ]

پندرہ برس کے رت جگوں کے بعد عابدی صاحب ریڈیو کو پیارے ہو گئے یعنی کہ رات کی نوکری چھوٹی اور دن کی شروع ہوئی۔ بی بی سی اردو سے وابسطہ ہوئے اور اس دوران کئی شاندار پروگرام کیے۔ قابلِ زکر پروگراموں میں کتب خانہ، جرنیلی سڑک، شیر دریا اور ریل کہانی شامل ہیں۔ "ریڈیو کے دن” آپ کے بی بی سی اردو میں بیتے برسوں کی کہانی ہے۔ یہ کتاب بھی دیگر کتب کی طرح دلچسپ اور آسان ہے ، عابدی صاحب نے بی بی سی پر جو جو پروگرام کیے وہ کیسے شروع ہوئے اور ان کو تکمیل تک پہنچاتے ہوئے کیسے کیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ان سب کا ذکر اس کتاب میں شامل ہے۔ رضا علی عابدی نے "ریڈیو کے دن” میں جہاں اپنے ریڈیو کے ساتھیوں کا ذکر کیا، وہیں وہ سامعین کی محبتوں کو بھی نہیں بھولے۔ کتاب کے ابتدائی باب میں ہی وہ ریڈیو کی تربیت کے پہلے سبق کا یوں تذکرہ کرتے ہیں کہ "پہلا گُر جو ہمیں سکھایا گیا وہ تھا اپنی آواز سے محبت کرو” لیکن وقت اور تجربے نے انہیں گُر سکھایا کہ ” اپنے سننے والوں سے محبت کرو” ۔

دونوں کتابیں پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں اور لاہور کے مشہور ادارے سنگِ میل پبلیکیشنز نے شائع کی ہیں۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں