میری کہانی از اشتیاق احمد

میں ہر گز یہ بات نہیں کروں گا کہ میرا تمام بچپن اشتیاق احمد کے ناول پڑھتے گزرا ہے لیکن اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بچپن میں اشتیاق احمد کو کافی پڑھنے کا موقع ملا۔ میرا باشعور بچپن کیوں کہ اکیسویں صدی میں آیا اس لیے آپ یہ کہ سکتے ہیں کہ اس وقت اشتیاق احمد مرحوم اپنا عروج کا وقت کافی حد تک بِتا چکے تھے۔

مجھے بچپن سے ہی کتابیں اور پڑھنے والا ماحول ملا، بچوں کے بے شمار میگزین ہر ماہ والدِ محترم میرے لیے لے کے آتے تھے۔ اشتیاق احمد کی پہلی تحریر شاید ماہنامہ نونہال میں پڑھی تھی،  پہلی ہی کہانی نے مجھے کافی حد تک اشتیاق احمد کی تحاریر کا گرویدہ بنا دیا تھا۔ انہی دنوں ہمارے گھر میں روزنامہ اسلام اور اس کے ساتھ بچوں کا اسلام آنے لگا اور یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ اشتیاق احمد اس کے مدیر ہیں۔ پھر تو ہر ہفتے ہی اشتیاق صاحب کی تحاریر پڑھنے کو ملنے لگیں۔ ان کے جاسوسی ناول بھی سب سے پہلے بچوں کا اسلام میں ہی قسط وار پڑھنے کو ملے۔ ہر کوئی انسپکٹر جمشید اور ان کے بچوں کا دیوانہ تھا لیکن سچ یہ ہے کہ مجھے تو شوکی برادران پسند تھے۔ انہیں دنوں میں اشتیاق صاحب کے پرانے ناول بھی باقاعدہ خرید کر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کی سوانح عمری "میری کہانی” بھی پہلی دفعہ میں نے انہی بچپن کے دنوں میں پڑھی تھی۔ آج کافی برسوں کے بعد اسی کتاب کا تفصیلی ایڈیشن پڑھنے کا موقع ملا۔

اشتیاق احمد کی کہانی جھنگ سے شروع ہوتی ہے جہاں پر ان کے والدین پانی پت سے ہجرت کر کے آئے تھے، بچپن میں آسانیوں کا دور دیکھا اور پھر جب والد کا کاروبار تباہ ہو گیا تو کافی تکالیف اور پریشانیاں بھی کاٹیں۔ اوائل عمری میں ہی عملی زندگی کا آغاز کر دیا، اسی دوران ایک دوست کی بہن نے لکھنے کی طرف راغب کیا، پہلی کہانی چھوٹا قد کے نام سے چھپی۔ میٹرک کے بعد کام کی تلاش میں لاہور آ گئے اور اسی دوران مختلف رسائل اور ڈائجسٹوں میں افسانے چھپنے شروع ہوئے۔ زندگی کا پہلا ناول ایک رومانوی ناول تھا جو کہ پبلشر ان کی بجائے کسی خاتون کے نام سے چھاپنا چاہتے تھے، جب آپ اس پر متفق نہ ہوئے تو پھرانہیں جاسوسی ناول لکھنے کے بارے میں کہا گیا، پہلا ناول پیکٹ کا راز صرف چار دنوں میں لکھا اور یوں بچوں کے لیے جاسوسی ناولز کا سلسلہ شروع ہوا جو موت تک جاری رہا۔ اشتیاق احمد کو بچوں کے لیے سب سے زیادہ ناولز اور سب سے بڑا ناول(غار کا کنواں) لکھنے کا بین الاقوامی اعزاز حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں :   اخبار کی راتیں اور ریڈیو کے دن ۔ رضا علی عابدی

اشتیاق احمد کی زندگی کئی رنگ لیے ہوئے ہے، آپ نے بچوں کے لیے جاسوسی ناول لکھے، ان ناولز کی پبلشنگ کے لیے اپنا ادارہ بنایا، مختلف رسائل میں کہانیاں لکھیں اور ان کی ادارت بھی کی۔ زندگی کا ایک بڑا موڑ مذہب کی طرف راغب ہونا تھا، 1982ء میں حج کے بعد آپ نے باقاعدہ داڑھی رکھ لی اور تحاریر میں مذہبی رنگ غالب آنے لگا، اس کے بعد کئی ابتدائی قارئین نے آپ کو پڑھنا چھوڑ بھی دیا۔ 2000ء کے بعد  آپ نے بچوں کے ہفتہ وار میگزین بچوں کا اسلام کی ادارت سنبھال لی اور مرتے دم تک اس کے ساتھ وابستہ رہے، اس دوران آپ نے عبداللہ فارانی کے قلمی نام سے سیرت النبی ، سیرالصحابہ اور اسلامی تاریخ پر بھی کتب تحاریر کیں۔ مذہب کی طرف مائل ہونے کے بعد آپ نے تصاویر بنوانا اور ٹی وی وغیرہ کے لیے انٹرویو دینا بند کر دیا تھا لیکن آخری عمر میں ان کی کئی تصاویر منظر پر آئیں اور مختلف تقاریب میں آپ کی ویڈیوز بھی بنیں۔ اشتیاق احمد اپنی ایک کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں جھنگ سے کراچی گئے ہوئے تھے، 17 نومبر 2015ء کو واپسی کے لیے کراچی ائیرپورٹ پر موجود تھے جب آپ کو دل کا دورہ پڑا اور آپ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

اشتیاق احمد کی زندگی کے کئی گوشوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ ایک شاندار اور کامیاب زندگی جی کر اس دنیا سے رخصت ہوئے، دنیا سے کچھ لیا ہو یا نہ ہو مگر اس دنیا کے ننھے منے بچوں کو بہت کچھ دے کر گئے۔ میں اپنے بچپن میں ان کے سارے ناول تو نہیں پڑھ پایا لیکن میں نے خود سے تہیہ کر رکھا ہے کہ جوں ہی میری بیٹی مصحف شعور کی عمر کو پہنچی میں اس کو یہ سارے ناولز ایک ایک کر کے سنانا شروع کروں گا اور اس طرح خود بھی ان سے معزوز ہو لوں گا۔

اشتیاق احمد کی یہ دلچسپ کہانی کراچی کے اٹلانٹس پبلیکیشنز نے شائع کی ہے جو کہ ان کے ناولوں کے پبلشرز بھی ہیں۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

1 thought on “میری کہانی از اشتیاق احمد”

اپنی رائے کا اظہار کریں