تیس سیکنڈ

چند دن قبل ، قریبی قصبے میں ایک باپ اپنی تین بیٹیوں کو سکول سے چھٹی کے بعد گھر لا رہا تھا۔ تین بیٹیوں میں سے ایک مزے سے رکشے میں بیٹھی بسکٹ کھا رہی تھی۔ ایک جگہ اچانک رکشے کو جھٹکا لگا اور وہ سولہ سالہ بچی رکشے سے باہر گری اور پیچھے سے آنے والے ٹرالر نے اسے کچل کر رکھ دیا۔ تیس سیکنڈ پہلے ایک زندہ لڑکی تھی جو بسکٹ کھا رہی تھی اور تیس سیکنڈ بعد سڑک پر ایک لاش تھی اور اس لاش کے پاس بسکٹ کے چنڈ ٹکڑے تھے۔ زندگی اتنی ناپائدار شے ہے۔

اپنے خیالات اور تجربات کو احاطہ تحریر میں لانا میرا شوق ہے۔ زیادہ سے زیادہ روٹی کمانے کے چکر میں پچھلے کئی سالوں سے لکھنے کے لیے وقت نہیں نکال پا رہا۔ ایک اور وجہ ٹال مٹول بھی ہے لیکن اس واقعے نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ کل کا کیا پتا ہو نا ہو۔ سو ہمیں کل کا انتظار بھی نہیں کرنا چاہیے، جو کرنا ہے کر گزریے۔

آپ لکھنے چاہتے ہیں تو بس لکھنا شروع کر دیجیے۔ ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں، کچھ سیکھنا چاہتے ہیں، کچھ پڑھنا چاہتے ہیں، اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔۔۔جو بھی ہے بس کر گزریے۔ آج بلکہ ابھی سے شروع کیجیے۔ وہ وقت کبھی نہیں آئے گا جب آپ کو مکمل فرصت میسر ہو گی۔ جب سب کچھ ویسا ہی ہو گا جیسا آپ چاہتے ہیں۔ جیسے تیسے حالات ہیں، جتنا تھوڑا بہت وقت میسر ہے، وہ کر گزریے جو آپ ہمیشہ سے کرنا چاہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :   آپ کا بچہ، آپ سے کیا چاہتا ہے؟

کیا خبر اگلے تیس سیکنڈ میں آپ ہیں سے تھے بن جائیں۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں