کتابیں پڑھنے کا فن

دنیا کے حقیقی کامیاب لوگ اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ کتابوں کی نظر کرتے ہیں، وہ چاہے کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں مطالعے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں۔ کامیاب لوگ یہ جانتے ہیں کہ ایک مصنف جب ایک کتاب لکھتا ہے تو اپنا سارا علم اور تجربہ اس کے اندر سمو دیتا ہے اور ہم چند گھنٹے صرف کر کے اس علم اور تجربے کو جس کے لیے مصنف نے عمر بِتائی، حاصل کر سکتے ہیں۔مطالعہ کامیاب زندگی کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے اس کے متعلق یہاں بہت زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم میں سے اکثر یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہم کتابیں پڑھنا بھی چاہتے ہیں۔ لیکن آج کل زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ جیسے وقت سے برکت اٹھ ہی گئی ہو۔ کتابیں چھوڑ ایک کتاب پڑھنے کے لیے یہاں وقت میسر نہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ زیادہ کتابیں کیسے پڑھی جائیں؟

میں بچپن سے ہی نصابی سے زیادہ غیر نصابی کتابوں کا عاشق رہا ہوں۔ مجھے والدین سے جو جیب خرچ ملا اور زندگی میں جو خود کمایا اس کا ایک بہت بڑا حصہ میں نے کتابوں پر صرف کِیا۔ زندگی میں دیر تلک میرے وقت کا ایک بڑا حصہ مطالعہ کی نظر ہوتا رہا اور پھر کسی حد تک غمِ روزگار اور زیادہ اس انٹرنیٹ نے مجھے کتابوں سے دور کر دیا، لیکن پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے اندر،میں نے پڑھنے کا فن پھر سے سیکھا اور 2017ء میں کافی سے زیادہ کتب کا مطالعہ کیا۔ اس مضمون کے اندر میں آپ کے ساتھ”پڑھا کیسے جائے” اور “زیادہ کیسے پڑھا جائے” کے موضوع پر جو میں نے دوسروں سے سیکھا اس کو اپنے تجربات کے ساتھ ملا کرپیش کر رہا ہوں، امید کرتا ہوں کہ یہ آپ کے لیے مفید ثابت ہو گا۔

1 ۔ پڑھنے کے لیے وقت مقرر کریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جب آپ کو وقت ملے گا آپ ضرور پڑھیں گے تو یقین رکھیے کہ آپ کو کبھی وقت نہیں ملے گا۔ اگر آپ پڑھنے کے معاملے میں سنجیدہ ہیں تو اس کے لیے اپنے نظامِ اوقات (Schedule) پر نظر دوڑائیے اور مطالعہ کے لیے وقت مختص کیجیے۔ صبح اٹھنے کے فوراً بعد اور رات کو سونے سے پہلے مطالعہ کے لیے اچھے اوقات ہیں، لیکن آپ اپنے معروضی حالات و واقعات کے مطابق کوئی سا بھی وقت اس اہم کام کے لیے مختص کر سکتے ہیں۔جو بھی ہو اپنے مصروف ترین وقت کا ایک سے ڈیڑھ گھنٹا مطالعہ کتب کے لیے ضرور نکالیے اور پھر اس وقت پر سب کام چھوڑ چھاڑ صرف پڑھیے۔

2 ۔ اپنے پسند کے موضوعات پر کتب پڑھیں

اگر آپ کی کتابوں کے ساتھ دوستی نئی نئی ہے یا اس پر برسوں کی دھول جمی ہے، تو میرا مشورہ ہے کہ آپ صرف ان موضوعات اور مصنفین کو پڑھیں جو کہ آپ کو پسند ہوں، بھلے ہی اہل علم ان موضوعات اور مصنفین کے متعلق اچھی رائے نہ رکھتے ہوں۔ آپ ڈائجسٹ کہانیوں اور ناولوں سے آغاز لے سکتے ہیں، عامیانہ اور تیسرے درجے کی شاعری پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر آپ کو بھلی لگیں تو جنوں بھوتوں والی کہانیاں بھی مزے کی ہوتی ہیں۔

موضوع اور مصنف جو بھی ہو، آغاز میں بس کتاب پڑھیں، وقت کے ساتھ ساتھ اچھی کتاب کی پہچان اور ذوق خود بخود پیدا ہو جائے گا۔

3 ۔ پڑھائی کے لیے دوستانہ ماحول بنائیں

اگر سمارٹ فون پر انٹرنیٹ اور کمرے میں ٹی وی چل رہی ہو گی تو نہ تو آپ کتاب پر دھیان دے پائیں گے اور نہ ہی اس میں آپ کا دل لگے گا۔ خوش قسمتی سے ہمارے گھر میں نہ تو ٹی وی ہے اور سال 2017ء میں، میں نے سمارٹ فون کے عذاب سے بھی نجات پا لی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں پھر سے زیادہ کتابیں پڑھ پایا ہوں۔ آپ بھی کوشش کریں کہ جب اور جہاں پڑھنے بیٹھیں وہاں کا ماحول کتاب پڑھنے والا ہو، ٹی وی ، انٹرنیٹ اور موبائل فون کو بند کر دیں، تبھی آپ زیادہ اور دھیان سے پڑھ پائیں گے۔

4 ۔ سالانہ یا ماہانہ مطالعہ کی فہرست (Reading List) بنائیں

میری ہمیشہ سے عادت رہی ہے کہ اہلِ علم جو بھی اچھی کتاب تجویز کریں اسے ڈائری یا پھر کمپیوٹر پر نوٹ کر لوں اور جوں ہی جیب اجازت دے اسے خرید کر اپنی لائبریری کی زینت بنا لوں۔ آپ کو بھی میں مشورہ دوں گا کہ آپ مہینے یا پھر سال کے آغاز پر ان کتابوں کی فہرست بنائیں جو کہ آپ اس مہینے یا سال میں پڑھنا چاہتے ہیں اور پھر اپنے مطالعہ کے ہدف کو جا لیں، یہ ایک  اچھی عادت ہے جو کہ آپ کو زیادہ مطالعے میں مدد دے گی۔ اگر آپ چاہیں تو کتاب دوستوں کی آن لائن کمیونٹی  GoodReads  پر اپنا اکاؤنٹ بنا کر سالانہ ریڈنگ شیلف اور ریڈنگ گول بنا سکتے ہیں۔ میں 2018ء میں 200 کتابیں پڑھنا چاہتا ہوں (جن میں ابنِ صفی کے 126 مختصر ناول بھی شامل ہیں) GoodReads  پر آپ میری 2018ء کی ریڈنگ لسٹ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :   عادات کا بہتر زندگی میں عمل دخل

5 ۔ حقیقی کتاب کو ای بک پر ترجیح دیں

اگر آپ زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ پی ڈی ایف ایب کتب پر حقیقی کتاب کو ترجیح دیں، کتاب چاہے لائبریری سے حاصل کریں، کسی دوست سے مستعار لیں یا پھر خرید کر پڑھیں، لیکن کوشش کریں کہ Physical Book ہو۔ میرا تجربہ ہے کہ جب بھی میں حقیقی کتاب پڑھتا ہوں تو زیادہ دیر تک پڑھ پاتا ہوں اس کی نسبت کمپیوٹر سکرین پر پی ڈی ایف کتاب زیادہ دیر تک پڑھی نہیں جاسکتی ۔

اور ہاں اگر ای بک پڑھنا بھی چاہتے ہیں تو خرید کر پڑھیں، مختلف ویب سائیٹس سے مصنف کی اجازت یا مرضی کے بغیر چرائی ہوئی کتب نہ تو پڑھی جائیں گی اور نہ ہی ان میں برکت ہو گی۔

6 ۔ ای بک پڑھنے کے لیے ای بک ریڈر استعمال کریں

اگر آپ کسی وجہ سے ای بک ہی پڑھنا چاہتے ہیں تو میرا مشورہ ہے کہ ای بک ریڈر خرید لیں اور اس پر پڑھیں، اس پر کتب خریدنا اور پڑھنا دونوں آسان ہیں۔ میں نے اس سال Amazon کا کنڈل پیپر بیک خریدا ہے اور یہ پڑھنے میں مجھے حقیقی کتاب جیسا مزہ دیتا ہے، اس کے اندر پڑھتے ہوئے نہ تو مجھے میرا عکس دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی آنکھیں تھکتی ہیں۔ اگر آپ کتاب دوست ہیں تو یہ بالکل بھی مہنگا نہیں، میں نے یہ ShopUS کی مدد سے Amazon سے منگوایا ہے اور قریب 14000 میں یہ مجھے پڑا ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مہنگا ہے تو یہ بالکل بھی نہیں ہے، میں 2500 کا موبائل استعمال کرتا ہوں، مہنگے سمارٹ فون پر میں نے پیپر وائیٹ کو ترجیح دی ہے، دراصل یہ ترجیحات کی بات ہوتی ہے۔

7 ۔ جہاں جائیں، کتاب ساتھ لے جائیں

آپ کو جب کبھی کسی ایسی جگہ یا محفل میں جانا پڑے جہاں آپ کو وقت ضائع ہونے کا پورا یقین ہو تو اپنی کتاب یا ای بک ریڈر ساتھ لے جانا نہ بھولیے اور جونہی وقت ملے فوراً کھول کے پڑھنا شروع کر دیں۔

8 ۔ کتاب دوست لوگوں کی محفل میں بیٹھنا شروع کریں

میرا کافی عرصے سے GoodReads پر اکاؤنٹ تھا لیکن اس کو کبھی صحیح سے استعمال نہیں کیا، لیکن اس سال سے میں اس کو باقاعدگی سے استعمال کر رہا ہوں اور یہ مجھے زیادہ کتابیں پڑھنے میں ٹھیک ٹھاک مدد کر رہا ہے۔ جب آپ ایسے افراد اور محفل میں گھرے ہوتے ہیں جہاں ہر طرف بس کتابوں کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں تو خود بخود آپ کا دل بھی مطالعے کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔ تو اگر آپ زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد آپ کو کئی ایسے افراد اور ادارے نظر آ جائیں گے جو کتاب دوست کہلاتے ہیں، وہاں جانا اور اٹھنا بیٹھنا شروع کریں، فیس بک پر ایسے کئی افراد اور گروپ موجود ہیں آپ ان کو بھی جوائن کر سکتے ہیں اور کتاب دوستوں کی بین الاقوامی محفل GoodReads کو تو ضرور جوائن کریں اور فیس بک کا ٹائم اس کو دینا شروع کریں۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

error: !!معذرت، کاپی کی اجازت نہیں