پانچ منٹ کے اندر سونے کا آسان نسخہ

کبھی ایک کروٹ کبھی دوسری کروٹ لیکن نیند کے آ کے نہ رہے۔ اگر آپ اس کیفیت سے نہیں گزرے تو خوش قسمت ہیں، لیکن عمومی طور پر انسان کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ سونا چاہ رہا ہوتا ہے لیکن نیند قریب پھٹکنے کا نام نہیں لیتی۔ نیند نہ آنے کی وجہ جسمانی اور ذہنی دونوں ہو سکتی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میں اسی کیفیت کا شکار رہا۔ سونے کے لیے بستر پر بھلے نو بجے لیٹ گیا لیکن سوتے سوتے دو بج جاتے۔ اس کی ایک سے زائد وجوہات تھیں، مجھے سوچنے کا مرض لاحق ہے سو جیسے ہی میں سونے کے لیے لیٹتا کوئی نہ کوئی سوچ آن گھیر لیتی اور بس نیند عنقا۔ بعض اوقات کوئی شاندار خیال ذہن میں آ گھستا اور پھر اس کے متعلق سوچتے اور ہوائی قلعے تعمیر کرتے دو بج جاتے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ سونے کے لیے لیٹتا اور کوئی کاروباری یا نجی مسئلہ آ کے ذہن کے دروازے کو کھٹکھٹاتا اور بس اس کو حل سوچتے اور کبھی موبائل انٹرنیٹ پر حل ڈھونڈتے دو بج جاتے۔

یہ صورتحال کافی تکلیف دہ تھی۔ مجھے صبح جلدی اٹھنا ہوتا اور رات کو دو بجے سو کر صبح جلدی اٹھنا ممکن نہیں اور اگر آپ خود پر جبر کر کے اٹھ بھی جائیں تو سارا دن نیند ذہن پر اور تھکاوٹ جسم پر طاری رہتی ہے۔ جلدی سونا میرے لیے انتہائی اہم مسئلہ بنتا جا رہا تھا سو میں اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے نکلا۔ اس سلسلے میں مختلف طریقے آزمائے اور آخرِ کار گوہرِ مراد ہاتھ آ ہی گیا۔

اب دن ہو یا رات، میں جب سونے کی نیت سے بستر پر لیٹتا ہوں تو پانچ منٹ بھی نہیں لگتے اور میں نیند کی وادیوں میں جا پہنچتا ہوں۔ نیچے دیے گئے آسان طریقے کو استعمال کرتے ہوئے اب بھی جلد سو سکتے ہیں۔

1 ۔ آرام دہ پہلو میں لیٹ جائیں

بھلے آپ زمین پر سو رہے ہیں یا بستر پر، سب سے پہلے اپنے جسم کو اس حالت میں لے آئیں جہاں آپ سکون محسوس کر رہے ہوں۔ کچھ لوگ دائیں کروٹ آرام سے لیٹ سکتے ہیں، کچھ بائیں کروٹ اور کچھ بالکل سیدھے۔ آپ جس انداز میں آرام محسوس کریں، اس انداز میں لیٹ جائیں۔

2 ۔ جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیں

میں نے کبھی غور نہیں کیا لیکن جب بھی میں سونے لیٹتا میرا جسم اکڑا ہوتا تھا۔ کبھی میری بھنویں تنی ہوتیں اور کبھی میں اپنے بازو کو ایک ایسی حالت میں لے جاتا جہاں وہ اکڑ جاتا۔ آپ بھی یقیناً ایسی ہی حالت میں سونے کے لیے لیٹتے ہوں گے۔ لیکن جلد سونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے جسم کو پرسکون حالت میں لے جائیں۔ آنکھیں بند کر کے اپنے چہرے سے آغاز کیجیے، اپنی آنکھوں کو ڈھیلا چھوڑیے۔ اس کے بعد بازو، کندھے پرسکون حالت میں لے جائیں۔ آخر میں اپنے جسم کے نچلے حصے یعنی ٹانگوں اور پاؤں سے بھی اکڑاؤ کو ختم کر لیجیے۔

3 ۔ دماغ کو سوچوں سے خالی کیجیے

یہ کافی مشکل کام ہے، خاص طور پر اگر آپ دردِ دل رکھتے ہیں یا پھر سوچنے کے مرض کا شکار ہیں۔ شروع شروع میں آپ کو مسئلہ پیش آئے گا لیکن یقین مانیے کہ اگر آپ نے کوشش جاری رکھی تو چند دنوں کے بعد یہ مسئلہ آپ کے لیے مسئلہ نہیں رہے گا۔ اپنے دماغ کو ڈانٹ ڈپٹ کر خاموش کرائیے اور دل ہی دل میں دہرائیے، میں کچھ نہیں سوچوں گا، بالکل نہیں۔

4 ۔ دھیان کو ایک جگہ مرکوز کیجیے

اب آپ کا جسم پرسکون حالت میں ہے اور دل و دماغ سوچوں سے خالی ہے۔ اب آپ نے اپنے دھیان کو ایک جگہ مرکوز کرنا ہے۔ اس کے لیے آپ مختلف طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ گنتی گن سکتے ہیں، اللہ کے ننانوے ناموں کو ذہن میں دہرا سکتے ہیں، کسی خاص حرف سے شروع ہونے والے الفاظ ذہن میں لا سکتے ہیں، گانے سن سکتے ہیں یا پھر اپنے دن کے معمول کو دہرا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :   1000 روپے ماہانہ والا انٹرنیشنل آن لائن سکول

اس سلسلے میں یہ اصول یاد رکھیے کہ آپ نے جو بھی طریقہ کار چنا ہے، اس کو آرام سکون اور پوری توجہ سے کیجیے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے ذہن میں گنتی گن رہے ہیں تو جلدی جلدی ایک، دو، تین، چار کر کے نہیں گننی بلکہ آرام سے کہیں ایک۔۔۔اس دوران اپنے ذہن میں نمبر ایک کی تصویر لائیں، اس کے بعد ہلکا سا توقف کریں اور پھر اگلا نمبر ذہن میں لے کے آئیں۔

اگر آپ دھیان کو ایک جگہ مرکوز کرنے کے لیے میوزک کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کے بہت اچھل کود والا میوزک نہ سنیں بلکہ غزل، ٹھمری یا پھر فوک گیت کا انتخاب کریں، صوفیانہ کلام بھی ایک اچھا انتخاب ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اکیلے ہیں تو آہستہ آواز میں میوزک لگا لیجیے اور اگر مشترکہ کمرے میں ہیں تو کانوں میں ہیڈ فون لگائے جا سکتے ہیں۔ آج کل کی جدید میوزک ایپس آپ کو سہولت دیتی ہیں کہ آپ اس بات کا تعین کر لیں کہ کتنی دیر بعد گانا بجنا بند ہو جائے۔ میں جس ایپ کو استعمال کرتا ہوں وہ گانا ہے اور اس میں یہ سہولت موجود ہے۔

اگر آپ نے دھیان لگانے کے لیے دن کے معمول کر دہرانا شروع کیا ہے تو خیال رکھیے کہ آپ نے پورا دن جو کچھ کیا اس کو آپ نے آہستہ آہستہ دہرانا ہے۔ آپ کا مقصد اپنے معمول کو یاد کرنا ہونا چاہیے نہ کہ جو دن میں اچھا برا ہوا اس پر خوش ہونا یا کڑھنا۔ آپ یہ کام کچھ یوں کر سکتے ہیں۔

  • صبح پانچ بجے الارم کی آواز کے ساتھ میری آنکھ کھل گئی۔
  • آنکھ کھلنے کے دس منٹ تک میں بستر پر یونہی پڑا رہا۔
  • دس منٹ کے بعد میں بستر سے اترا۔
  • اس کے بعد میں بیت الخلا میں جا گھسا۔
  • حوائج ضروریہ سے فراغت کے دوران میں دو دن پہلے دیکھے جانے والی فلم کے متعلق سوچتا رہا۔
  • پھر میں نے ہاتھ منہ دھویا اور دانتوں کو صاف کیا۔
  • اس کے بعد میں نے تولیے سے منہ خشک کیا۔
  • منہ خشک کر کے میں پانی کے پاس جا رکا اور ایک گلاس پانی کا پیا۔

یونہی اپنے معمول کو یاد کرتے جائیں اور اس دوران اگر کوئی ایسی بات آ جائے جس کی وجہ سے آپ کو تکلیف ہوئی ہو، مثال کے طور پر باس سے منہ ماری ہو گئی ہو تو آپ نے اس کو صرف دہرانا ہے یہ نہیں سوچنے بیٹھ جانا کہ ایسا کیوں ہوا یا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا یا پھر یہ کہ آپ کو کیا ردِ عمل دینا چاہیے تھا۔ بس ایک اچھے رپورٹر کی طرح جو ہوا اس کو دہرائیں، کیوں کیسے کے متعلق مت سوچیے۔

دھیان لگانے کا جو بھی آپ عمل کریں گے وہ آپ مکمل نہیں کر پائیں گے اور نیند آپ کو آن گھیرے گی۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اللہ کے ننانوے نام دہرا رہے ہوں اور بیس ناموں کے بعد آپ سو جائیں۔ یا پھر سوپچاس تک گنتی ہو اور پھر آپ کو کچھ یاد نہ رہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شفاءاللہ کا پہلا گانا یا جگجیت کی پہلی غزل آپ کو کو نیند کی وادیوں میں جا دھکیلے۔

آپ یہ سب کر کے دیکھیے، شروع میں اگر آپ ناکام بھی ہوں تو اس عمل کو کرنا مت چھوڑیے چند ہی دنوں میں آپ منٹوں کے اندر سونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

2 thoughts on “پانچ منٹ کے اندر سونے کا آسان نسخہ”

اپنی رائے کا اظہار کریں