ذمہ دار شخص کیسے بنا جائے؟

ذمہ دار، ذی ہوش لوگ جن پر بھروسہ کیا جا سکے، جن سے ہم عموماً بیوقوفی کی توقع نہیں کرتے، ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوتے۔ ہماری عادات و اطورا ہمیں یہ درجہ دلاتی ہیں اور یہ وہ خوبیاں ہیں جو ہم وقت کے ساتھ ساتھ سیکھتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ لوگ جلد ان خوبیوں کے حامل ہو جاتے ہیں اور کچھ پیری میں جا کر بھی غیر ذمہ دار شخص کہلاتے ہیں۔

ہم میں سے کچھ لوگ مشکل حالات میں آنکھ کھولتے ہیں اور کچھ سونے کی چمچ کے ساتھ، کہاں اور کن حالات میں پیدا ہونا ہے یہ ہمارے اختیار میں نہیں۔ کچھ لوگ ساری عمر محنت کرتے ہیں، حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں ناکام ہو جاتے ہیں، ناکامی اور کامیابی بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔ جو چیز ہمارے اختیار میں کوشش اور محنت ہے، ناکامی کے باوجود ایک نئے انداز میں زندگی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ہم میں سے کچھ لوگوں کو کامیابی آسانی سے مل جاتی اور کچھ کوبرسوں کی مشقت کے بعد۔ کامیابی کب ملے گی، یہ بھی ہمارے اختیار سے باہر کا سوال ہے، ہمارا کام ہے خود کو، اپنے حالات کو بدلنے کی ذمہ داری لینا اور اس کے لیے کوشش کرنا۔

تو آخر کیسے ہم ایک ایسا شخص بن سکتے ہیں جس کو لوگ ذی ہوش شخص قرار دیں؟ کیسے ہم ایک ایسا شخص بن سکتے ہیں جو اپنے حالات کو خود بدل سکے؟ کیسے ہم غیر ذمہ دار فرد سے ذمہ دار فرد کا سفر طے کر سکتے ہیں؟ درج ذیل چند عادات و اطوار اس سفر کو سہل اور تیز رفتار بنا سکتی ہیں۔

1 ۔ اپنے خیالات اور سوچوں کی ذمہ داری لیں

ہماری سوچیں ہماری شخصیت کو بنانے اور بگاڑنے میں اہم قردار ادا کرتی ہیں۔ ایک ذی ہوش اور ذمہ دار شخص کو اپنے خیالات پر مکمل طور پر قابو ہوتا ہے۔ بیرونی عوامل ہمارے ساتھ جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے اختیار میں نہیں لیکن ہم اپنی سوچوں کو اپنے قابو میں لا سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ جب انسان پر مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں تو مثبت انداز میں سوچنا محال ہو جاتا ہے، لیکن منفی انداز میں سوچ کر کونسا ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے؟ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی سوچوں کو مثبت بنا کر ایک ذمہ دار فرد میں خود کو بدل سکتے ہیں۔

2 ۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں

ہم انسان غلطیوں کا مرکب ہیں اور ہماری غلطیاں ہمیں کچھ نیا سکھاتی ہیں، زندگی میں آگے بڑھنے کی راہ دکھاتی ہیں۔ ایک ذمہ دار شخص سے جب کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتا ہے، اسے سے سیکھتا ہے اور آئندہ سے اسے نہ دہرانے کا عہد کرتا ہے۔ اس کے برعکس ایک غیر ذمہ دار شخص اپنی غلطی کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے یا پھر اپنی غلطی پر ڈٹ جاتا ہے اور اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک غبی شخص ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔

3 ۔ پابندی وقت کی عادت اپنائیں

ہم میں سے ہر شخص کے پاس محدود وقت ہے، اس محدود وقت میں ہر کام نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ہر کسی کے کام آیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں خود سے اور دوسروں سے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کرنے کے وعدے نہیں کرنے چاہیں۔ ایک ذمہ دار شخص عہد سوچ سمجھ کر کرتا ہے لیکن اگر کسی کام کو کرنے کا منصوبہ بنا لے، اس کے لیے وقت مختص کر دے یا پھر کسی سے ملنے کا عہد کر لے تو اس کو ہر حال میں وقت پر پورا کرتا ہے۔

4 ۔ مالی امور کے متعلق اپنے علم میں اضافہ کریں

آپ تب تک ایک ذمہ دار اور ذی ہوش شخص کا درجہ حاصل نہیں کر سکتے جب تک آپ روپیہ پیسہ کمانے، بچانے، لگانے اور پیسے سے پیسہ کمانے کے ہنر نہیں سیکھ جاتے۔ پیسہ کمانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے اگر آپ کو آتا نہیں اور آسان ترین ہے جب آپ پیسہ کمانے کا ہنر سیکھ جاتے ہیں۔ روپیہ پیسہ کمانے کے ساتھ ساتھ آپ کو پیسہ خرچ کرنے اور بچت کرنے کا بھی علم ہونا چاہیے اور سب سے اہم یہ کہ جو پیسہ آپ نے کمایا ہے اس کو انویسٹ کر کے کیسے مزید پیسا کمانا ہے۔ آپ کو Amazon پر اس موضوع پر بے شمار اچھی کتب مل جائیں گی، جن سے آپ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس موضوع پر میری ایک پسندیدہ کتاب Financial Freedom ہے۔ اردو میں بھی اس موضوع پر چند ایک کتب موجود ہیں جنہیں آپ کسی بھی اچھی کتابوں کی دوکان سے خرید سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :   آمدنی سے کم خرچ

5 ۔ ٹال مٹول اور بہانے بازی چھوڑ دیں

ذمہ دار شخص کاموں کو مقررہ وقت کے اندر سرانجام دیتے ہیں۔ آپ کوئی بھی کام شروع کریں گے، آپ کو قسم ہا قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے میں ذمہ دار، سمجھ دار شخص ان مسائل کا حل ڈھونڈتا ہے جب کہ غیر ذمہ دار شخص ٹال مٹول شروع کر دیتا ہے، کام نہ کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔ اگر آپ ایک ذمہ دار شخص بننا چاہتے ہیں تو آپ کو ٹال مٹول کی عادت سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔

6 ۔ اپنی زندگی میں ترتیب لائیں

ہر کامیاب اور ذمہ دار شخص کی زندگی میں ایک ترتیب ہوتی ہے۔ ہمیں ہمہ روز زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق بے شمار کام سرانجام دینے ہوتے ہیں، بے شمار ملاقاتیں، وعدے، خریداری، گھر کے کام، دفتر کے کام اور پتا نہیں کیا کیا۔ یہ سب ممکن نہیں ہو گا جب تک آپ کیلنڈر کا استعمال نہیں کریں گے، ضروری کاموں کی فہرست نہیں بنائیں گے، سالانہ، سہ ماہی، ماہانہ، ہفتہ وار اور روزانہ کی بنیاد پر منصوبہ بندی نہیں کریں گے۔ محدود وقت میں زیادہ سے زیادہ کام نبٹانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی زندگی کو منظم کریں۔

7 ۔ شکایات اور الزام تراشی سے گریز

اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے، نظام، حالات اور والدین کو ٹھہرانا ناکام، کمزور اور غیرذمہ دار افراد کا کام ہے۔ اگر آپ نے اس دنیا میں کچھ کر کے دکھانا ہے تو آپ کو اپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کی ذمہ داری خود اپنے ہاتھ میں لینا ہو گی۔ آپ جہاں اور جیسے پیدا ہوئے یہ آپ کے اختیار میں نہیں تھا لیکن اپنے حالات کو بدلنا آپ کے اختیار میں ہے، پھر بھلے اس کے لیے آپ کو کتنی ہی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ اگر آپ خود کو ایک ذمہ دار شخص مانتے ہیں یا پھر ایک ذمہ دار شخص بننا چاہتے ہیں تو پھر آج سے ہی شکایات کرنا اور دوسروں پر الزام تراشی کرنا چھوڑ دیجیے۔ اپنے اردگرد کچھ غلط دیکھتے ہیں اور اسے بدل سکتے ہیں تو بدل دیجیے، نہیں تو شکایت کرنا، کڑھنا چھوڑ دیجیے۔ اگر کچھ غلط آپ کے آگے بڑھنے میں رکاوٹ ہے اور اسے آپ بدلنے سے بھی قاصر ہیں تو متبادل تلاش کیجیے۔

8 ۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں

ایک ذمہ دار شخص، جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ آپ اپنی اور اپنے پیاروں کی سہولت کو ضرور مدِنظر رکھیں لیکن اگر آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں تو ضرور کیجیے۔ آپ کو آسانیاں پیدا کرنے کے موقع ہر روز، ہر لمحہ ملے گا۔ سڑک پر گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے، دوسروں کو گزرنے کا موقع دے کر آپ ان کے لیے آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔ کسی ضعیف کے لیے کرسی خالی کر کے آپ آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ تپتی دوپہر میں محنت کرتے مزدور کو ٹھنڈا جوس پلا کر آپ ان کے لیے آسانی پیدا کر سکتے ہیں۔ اور ہاں ذمہ دار شخص، اگر کسی کے لیے آسانی پیدا نہ کر سکے تو مشکل کا سامان ہر گز نہیں بنتا۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں