آمدنی سے کم خرچ

کمرشل ازم کے اس دور میں ایک بھاگم بھاگ سی لگی ہوئی ہے، یہ بھی چاہیے وہ بھی چاہیے، یہ خرید لوں وہ خرید لوں، اِس پر سیل اُس پر سیل۔ ہر لمحے ہمیں اشتہارات نے گھیر رکھا ہے، اپنے شعبے کے ماہر مارکیٹر (Marketer) ہر وقت ہماری نفسیات سے کھیلتے ہیں، یہ خریدیں تب آپ کی زندگی مکمل ہو گی، وہ خریدیں تب زندگی میں مزہ آئے، یہ نہ لیا تو کچھ نہ لیا، اس چیز کےبِنا تو آپ کی زندگی میں کبھی خوشی آ ہی نہیں سکتی۔ یہ پیغام کبھی ہمیں ڈائریکٹ دیا جاتا ہے اور اکثر اِن ڈائریکٹ، وہ لوگ جن کو یہ قوم ہیرو سمجھتی ہے وہ جب اشتہار میں ایک شیمپو استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے آپ بھی ان کی طرح ہیرو بننا چاہتے ہیں تو یہ شیمپو لیں۔ وہ جب ایک خاص برانڈ کا مشروب پی کر ناقابلِ یقین کارکردگی دکھاتے ہیں تو پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کی اس کارکردگی کے پیچھے یہی مشروب ہی تو ہے۔ اسی طرح جب انڈیا کی ایک خوبرو ہیروئن یا ایک دلکش ہیرو ایک خاص کمپنی کا موبائل استعمال کر رہے ہوتے ہیں تو ان جیسا بننے کے لیے یا ان کے حقیقی فین بننے کے لیے ہمیں بھی وہی موبائل لینا چاہیے یہ ہوتا ہے اس اشتہار کا پیغام۔

اس سب اشتہار بازی کا نتیجہ انسان کا مشین بننے کی صورت میں نکلا ہے، ایک دوڑ ہے زیادہ کمانے کی تا کہ زیادہ خرچ کیا جا سکے۔ اس بھاگ دوڑ میں ہم زندگی کی حقیقی خوشیوں کا لطف اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب ہم خوشی کو چیزوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں تو انسان کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں، جب خوشی iPhone لینے کے ساتھ منسلک کر دی جائے گی اور iPhone کا ہر سال نیا ماڈل آجاتا ہے تو وہ نیا ماڈل لینے کے لیے مشین کی طرح کام تو کرنا ہی ہو گا، تبھی تو خوشی ملے گی، ایسے میں اولاد، ماں باپ اور جیون ساتھی جائے بھاڑ میں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشی زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے خوبصورت لمحوں میں ہے، خوشی یہ ہے کہ میری بیٹی مجھے پہلی دفعہ ‘بابا’ کہے اور میں وہ سننے کے لیے موجود ہوں، خوشی یہ ہے کہ میری بیٹی میرے ساتھ روزانہ دو سے تین گھنٹے کھیلنا چاہے اور میں کھیلنے کے لیے موجود ہوں۔

یہ بھی پڑھیں :   بےروزگاری کے دنوں میں کرنے کے کام

یہ سب تبھی ممکن ہو گا جب ہم ‘زیادہ کماؤ، زیادہ خرچ کرو’ کی بجائے ‘تھوڑا کماؤ تھوڑا خرچ کرو’ یا کم از کم ‘جتنا کماؤ اس کے اندر رہ کے خرچ کرو’ پر یقین رکھیں گے، اور ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم خوشی اور سکون کو دولت کمانے اور خرچ کرنے کے ساتھ منسلک کرنا چھوڑ دیں۔ آپ بڑی آسانی سے بچت کر سکتے ہیں اگر آپ غیر ضروری چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال باہر کریں۔ اس مہینے ذرا اپنے اخراجات کی فہرست بنانا شروع کریں اور دیکھیں تو سہی کہ آپ کی محنت سے کمائی ہوئی دولت کہاں کہاں پر سرمایہ داروں کے پیٹ بھر رہی ہے۔ یاد رکھیں سرمایہ دار طبقے کو اس سے کوئی پریشانی نہیں کہ آپ زیادہ کمائیں اسے پریشانی تب ہے جب آپ وہ سارا نہ لگائیں جو آپ نے کمایا ہے۔ آپ کی ساری جمع پونجی خرچ کرانے کے لیے وہ اپنی دولت اشتہار بازی پر بے دریغ لٹا رہا ہے کہ اسی میں اس کی کامیابی مضمر ہے۔

‘آمدنی سے کم خرچ’ ایک فن ہے، اسے سیکھیں، تبھی آپ خوشحال اور آپ کی زندگی پرسکون ہو پائے گی۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں