آپ کا بچہ، آپ سے کیا چاہتا ہے؟

ہمارے ہاں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو پیار، محبت اور اچھا مستقبل تبھی دے سکتے ہیں جب ہمارے پاس بہت سارا پیسہ ہو۔ میں ایک بیٹی کا باپ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ بچوں کو صرف آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں والدین خصوصاً والد یہ سمجھتا ہے کہ اس کا کام بچوں کے لیے محنت کر کے پیسہ کمانا ہے تا کہ وہ اچھا کھا سکیں، پہن سکیں اور کسی مہنگے سکول سے ڈگری لے کر اچھا مستقبل بنا سکیں۔

آپ کے پاس بھلے پیسہ ہو یا نہ ہو، آپ بچوں کے لیے دن رات محنت کرتے ہوں یا چند گھنٹے، درج ذیل چیزیں بچوں کو صرف آپ ہی دے سکتے ہیں اور انہیں آپ کے پیسوں سے زیادہ ان چیزوں کی ضرورت ہے۔

1 ۔ وقت

بدقسمتی سے یہ وہ چیز ہے جو ہمارے والدین خصوصاً والد کے پاس نایاب ہوتی ہے۔ میری بیٹی مصحف کو نہ ہزاروں روپیہ چاہیے نہ لاکھوں، اس کو چند سو روپے کی چیز چاہیے ہوتی ہے اور اگر میرا وافر وقت اس کے لیے دستیاب ہو تو اسے ان چند سو روپوں کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اگر آپ ایک باپ ہیں تو اس بات کو تسلیم کیجیے کہ آپ کے بچوں کو صرف آپ کا پیسہ نہیں چاہیے اور نہ ہی ان کو وقت دینا صرف ان کی ماں کی ذمہ داری ہے۔ اگر آپ نے اپنے آپ پر کام کا بہت زیادہ بوجھ لاد رکھا ہے تو اسے ہلکا کیجیے اور اگر غیرضروری مصروفیات کا شکار ہیں تو انہیں ختم کر کے بچوں کو وقت دیجیے۔

2 ۔ پیار

ہمارے ہاں پیار اور محبت دونوں کیوں کہ جنسِ ممنوع سمجھی جاتی ہیں، اس لیے ہمارے والدین اپنی اولاد سے بھی اس پیار کرتے ہوئے بڑی احتیاط گردانتے ہیں۔ میں ایسے والدین سے بھی واقف ہوں کہ جو اپنی اولاد سے پیار تو کرتے ہیں لیکن پتا نہیں کہاں سے انہیں یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی ہے کہ پیار کا اظہار بچوں کو بھگاڑ دیتا ہے۔ یقین مانیے ایسی کوئی بات نہیں ہے، اپنے بچوں سے پیار کیجیے اور کھل کر اس کا اظہار بھی کیجیے۔ اگر آپ کے والدین نے جہالت یا کسی اور وجہ سے آپ کو کبھی یہ نہیں بتایا کہ وہ آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں تو براہِ کرم اس غلط روایت کو یہیں ختم کر دیجیے۔ بچوں سے عملی، لفظی اور بدنی ہر طرح کی محبت کا اظہار کیجیے۔ یاد رکھیں اگر آپ ان سے محبت کر اظہار نہیں کریں گے تو کل کو کوئی اور ان کی اس محرومی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، انہیں ایسے نقصان سے دوچار کرے گا جس کا ازالہ آپ نہیں کر پائیں گے۔

3 ۔ حوصلہ افزائی

بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک شاباش، ایک تھپکی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ والدین کا فرض اور بچے کا حق ہے۔ افسوس کہ ہمارے والدین حوصلہ افزائی کے معاملے میں بھی کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کو ایک کامیاب انسان دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر اس کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کر دیجیے۔ بچہ جب بھی کوئی اچھا کام کرے، زندگی کے کسی بھی شعبے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے، اس کو انعام دیجیے، اس کے لیے تالیاں بجایے، اسے پیار کیجیے۔ اسے زندگی میں آپ کی شاباشی آگے لے کے جائے گی۔

4 ۔ مواقع

ہمارے ہاں ایک خیالِ غلط پایا جاتا ہے کہ کچھ کام ہیں جو کہ بچوں کے کرنے والے ہیں اور کچھ کام ہیں جو بڑوں بزرگوں کے کرنے والے ہیں۔ اور پھر اس پر یہ بدقسمتی کہ بچپنے اور بزرگی کا تعین عمر سے کیا جاتا ہے۔ عقل و فہم کا تعلق ہرگز ہرگز عمر سے نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ عمر انسان کو تجربات کی پوٹلی تھماتی ہے لیکن اگر کوئی ساٹھ سال کا بوڑھا اپنے تجربے سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں، بار باز بیس کے پیٹے کی غلطیاں دہرائے جا رہا ہے، تو اس کا بزرگی سے کوئی تعلق نہیں، وہ بیوقوف نوجوان ہی کہلائے گا۔ اس کے برعکس ایک بیس سالہ نوجوان جو دوسروں کے تجربات سے سیکھ کر غلطیوں سے گریز کا رہا ہے وہ ایک بزرگ کا رتبہ رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :   پانچ منٹ کے اندر سونے کا آسان نسخہ

ہم اوپری دلیل کی بنیاد پر اپنے بچوں کو بہت کچھ کرنے سے روک دیتے ہیں۔ بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کا موقع دیجیے اور یہ تبھی ہو گا جب آپ ان کے کام انہیں خود کرنے دیں گے۔ وہ زندگی میں جو کرنا چاہتے ہیں، انہیں کرنے دیجیے۔ ان کی رہنمائی ضرور کیجیے، اچھا برا سمجھائیے، لیکن اگر وہ غلطی کرنے پر مصر ہیں تو کرنے دیجیے، یونہی انسان سیکھتا ہے۔ آپ کا بچہ سکول کی پڑھائی چھوڑ کر اگر کاروبار کرنا چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہو سکتا ہے وہ اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہو۔ بچوں کو مواقع دیجیے، کامیابی پر حوصلہ افزائی اور ناکامی پر ان کو اٹھنے میں مدد دیجیے۔

5 ۔ اعتبار

بچوں پر اعتبار کریں گے تو وہ مہنگا پڑے گا، بچے بگڑ جائیں گے، کیوں؟ کیوں بگڑ جائیں گے؟ آپ کا بچہ زندگی میں آگے جانا چاہتا ہے اور یہ آپ کے اعتبار کے بِنا نہیں ہو گا۔ اندھا اعتبار نہ کیجیے لیکن یوں بے اعتباری کہ ایک ایک پل اس پر کڑی نظر، خدارا ایسا بھی نہ کریں۔ آپ کا بچہ چاہتا ہے کہ آپ اس پر اعتبار کریں۔ یقین مانیں اگر آپ اس کے دوست ہیں، آپ نے اسے وقت دیا ہے تو وہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گا۔

6 ۔ قہقہے

میری ایک تین سالہ بیٹی ہے، مصحف۔ میں اور مصحف جب اکٹھے ہوتے ہیں تو پڑوسی ہمارے قہقہوں سے تنگ آ جاتے ہیں۔ بچے ماں باپ کی نصیحتوں سے نہیں سیکھتے، لیکن اپنے دوستوں سے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔ اگر آپ اپنے بچے کے دوست بننا چاہتے ہیں تو اس کے جیسے بن جائیے، اس کی عجیب و غریب باتوں اور حرکات و سکنات پر کھل کے قہقہے لگائیے۔ بچوں کے ساتھ بچے بن جائیے، ہنسیں، کھل کے ہنسیں، آپ کے پیسوں سے زیادہ بچے کو آپ کے قہقہے زیادہ عزیز ہیں۔

7 ۔ گود، باہیں، مِٹھی اور جپھی

ہمارے ہاں مائیں تو پھر بھی ان چیزوں کا خیال رکھتی ہیں لیکن اولاد باپ کی گود میں بیٹھنے کو تو ترس ہی جاتی ہے۔ بچے چھوٹے ہیں تو ان سے پیار کے اظہار میں کنجوسی نہ کیجیے۔ انہیں گود میں بٹھائیں، ان کا سر، ماتھا، منہ چومتے رہیے۔ تھوڑی سے بڑی عمر کے بچے اپنے والدین کی باہوں کو ترس جاتے ہیں۔ انہیں بات بہ بات پیار کیجیے۔ اتنا پیار دیجیے کہ ان کی زندگی میں کوئی ایسا پیار نہ گھس آئے، جو دونوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو۔

کیا آپ سادہ، آسان اور پُرسکوں زندگی کے خواہاں ہیں؟
اپنا ای میل ایڈریس درج کیجیے اور میرا ہفتہ وار ای میل نیوز لیٹر جوائن کیجیے

احباب کے ساتھ شیئر کیجیے

Share on facebook
فیس بک
Share on twitter
ٹوئٹر
Share on google
گوگل پلس
Share on email
ای میل
فیس بک
ٹوئٹر
گوگل پلس
ای میل

اپنی رائے کا اظہار کریں